تحریر: فرح بتول جلبانی
حوزہ نیوز ایجنسی|
سردار سلیمانی سے پہلی مرتبہ واقفیت ان کی شہادت پر ہوئی۔اس سے قبل میرے لیے وہ فقط ایک ایرانی جنرل تھے۔
جب پتہ چلا کہ ایرانی جنرل سردار قاسم سلیمانی کی شہادت ہو گئی ہے تبھی تصویروں اور ویڈیوز میں ان کے خوبصورت چہرے سے شناسائی ہوئی۔ایک عجیب سا احساس ہوا جو آج تک قائم ہے؛ ایسے لگا کہ میں پہلے بھی ان سے واقف تھی اور پھر ان کی شہادت ۔۔۔جیسے مجھ سے میرا کوئی محترم عزیز بچھڑا ہو، بہت دکھ ہوا۔
پھر ان کی شخصیت کی عمیق شناسائی کا جذبۂ تجسس پیدا ہوتا گیا۔
11مارچ 1957 کو کرمان (ایران) میں آنکھ کھولنے والے اس بچے کے متعلق کسی عام انسان کے وہم وگمان میں بھی نہ ہوگا کہ آج کا یہ بچہ اپنے زمانے کا مالک اشتر بنے گا۔
(رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے بقول: قاسم سلیمانی آج کے مالک اشتر ہیں۔ رہبر معظم کا یہ فرمان کسی عام انسان کا فرمان نہیں بلکہ نائب امام عج کا فرمان ہے۔علامہ حسن زادہ آملی کہتے ہیں کہ اپنے کانوں کو رہبر معظم کے الفاظ پہ رکھو کیونکہ ان کے کان حجت ابنِ حسن ع کے الفاظ پر ہیں۔)
کس نے سوچا تھا کہ یہ مظلوموں کے لیے دادرسی، دوستوں کا دوست اور دشمن کے لیے خار بن جائے گا۔
سردار حاج 1998 سے لے کر 2020 تک IRGC کی قدس فورس کے کمانڈر رہے جو برآمدی و خفیہ فوجی آپریشنز کی ذمہ دار تھی۔
وہ داعش اور اس جیسی دیگر شدت پسند تنظیموں کے خلاف لڑنے والے،محافظِ قدس و مدافع حرم بی بی زینب س اور ایران کے لیے دفاعی علامت تھے۔
وہ فلسطین کی آزادی کے لیے بنیادی کردار ہیں۔
انہوں نے فلسطین کی آزادی کی دیواروں کو مستحکم بنایا۔
حاج قاسم نے کہا تھا کہ فلسطین آزاد نہیں ہو سکتا مگر۔۔۔شیعوں کی پرچم داری کے۔
پھر وقت نے بتایا کہ انکی بات کتنی گہری اور صداقت پر مبنی تھی۔
وہ دفاعِ حرمِ بی بی زینب س کے لیے بھی ایک آہنی حصار تھے۔
وہ ویسے تو فرد واحد تھے مگر اپنی ایمانی قوت کے باعث ایک مکمل لشکر تھے۔
وہ باطل کے لیے ایک خطرناک طوفان کی مانند تھے کہ جسے روکنا ناممکن ہوتا ہے۔مگر
اپنے اہل خانہ و دوست و احباب کے لیے مشفق و فرشتہ نما انسان تھے۔
بچوں کے ساتھ کھیل کود اور دوستوں کے ساتھ ہنسی مزاح۔وہ قرآن کی اس آیت پہ پورا اترتے ہیں۔
أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ. (وہ کفار پر سخت،آپس میں رحم دل ہیں۔) (الفتح:29)
میدان جنگ سے ہٹ کر بھی اگر ان کی شخصیت کو دیکھا جائے تو وہ ایک راہنما کے طور سامنے آتے ہیں۔
ان کا یہ قول کہ اگر ساری دنیا کے علماء ایک طرف اور رہبر معظم ایک طرف ہوجائیں تو آپ رہبر معظم کا ساتھ دینا انکی راہ چُننا۔
کیسے آپ نے دور باطل میں ہمیں روشنی کی راہ دکھائی ۔
جہاں ان کی زندگی کے دیگر پہلو متاثر کن تھے وہیں پہ یہ بھی کہ وہ اپنے لباس کے معاملے میں بہت حساس تھے۔
شہادت سے کچھ دن قبل آخری مرتبہ لبنان میں جب سید عزیز حسن نصر اللہ کے گھر میں تشریف فرما تھے اپنے لیے بہتر سے بہترین لباس کا چناؤ کیا۔
اس کے علاوہ ان کی دختر زینب سلیمانی اپنے انٹرویو میں بتاتی ہیں کہ شہید کے ساتھ وہ لوگ کہیں جارہے ہوتے تو شہید ان سے کہتے کہ آپ لوگوں کی چادر بہترین و عمدہ ہونی چاہیے۔
وہ کبھی شہرت کے پیچھے نہیں بھاگے۔مگر تاریخ نے انہیں اپنے اوراق میں سنہرے حروف سے محفوظ کر لیا۔
وہ اپنےاندر وفا کی مکمل داستان لیے ہوئے تھے۔
وہ علمدارِ لشکر تھے۔شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شہادت بھی علمدارِ لشکر حضرت عباس ع کی شہادت کے مشابہ ہوئی۔اپنے وطن سے دور اسی ملک میں جہاں حضرت علمدار کی شہادت ہوئی۔
اور پھر ان کے ہاتھ کاالگ ہوجانا جس میں عقیق کی انگشتری تھی۔
کٹا ہوا ہاتھ اور انگشتری بھی ایک معرکے کی یاد دلاتے ہیں۔
اور صرف یہی نہیں بلکہ نہ جانے ان کی کتنی یادیں اہل بیت ع سے وابستہ ہیں۔
وہ 30 سال سے مسلسل جدو جہد میں تھے۔شہادت کی تلاش میں تھے۔
اس جستجو و جدوجہد میں کئی عرصہ سے سکون کی نیند نہیں سوئے تھے مگر ان کی آخری فلائٹ میں ان کی پر سکون نیند ،عظیم ہستی مولا علی ع کی ایک پر سکون نیند کی یاد دلاتی ہے ۔(اس سے قبل وہ اپنے سفر کے اوقات میں مشغول مطالعہ رہتے تھے۔)
یقیناً شہید سلیمانی کا راستہ حق و استقامت کا راستہ ہے۔
وہ ہمیں یہ درس دیتے ہیں کہ اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ کرداروں میں ہے۔
ان کے متعلق جب رہبر معظم کے شدت درد سے بھر پور یہ الفاظ سنتی ہوں کہ اللّٰهُمَّ لَا نَعْلَمُ مِنْهُمْ إِلَّا خَيْرًا
تو رہبر معظم کے اس درد سے دل کانپ جاتا ہے اور یہ گواہی دیتا ہے کہ ہم واقعی حاج قاسم کے متعلق خیر کے علاوہ کچھ بھی نہیں جانتے۔
سوچتی ہوں کہ جب بھی ان کے مزار پہ جانا ہوا تحفے میں ان سے شہادت ضرور مانگوں گی اگرچہ میں اس قابل تو نہیں لیکن شہدا کسی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے۔
حاج سلیمانی کی زندگی کے 30 سالہ مسلسل جدو جہد میں شہادت کی خواہش کا 63 سال کی عمر میں پورا ہونا آقا ختمی مرتبت ص و مولا علی ع کی عمر مبارک بھی 63 سال،دراصل توحید ورسالت و ولایت کا حقیقی پیروکار ہونے کی بھی ایک علامت ہے۔









آپ کا تبصرہ